سوختہ نصیب

قسم کلام: صفت ذاتی

معنی

١ - بدقسمت، بدنصیب۔ "اگر مر جاتا تو اس کی سوختہ نصیب جوان مٹی بھی سہارے لگ ہی جاتی۔"      ( ١٩٨٦ء، جوالامکھ، ٥٣ )

اشتقاق

فارسی زبان سے اسم صفت 'سوختہ' کے ساتھ عربی سے اسم مجرد 'نصیب' بطور موصوف بڑھانے سے مرکب بنا۔ اردو میں بطور صفت استعمال ہوتا ہے اور ١٨٣٦ء کو "ریاض البحر" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - بدقسمت، بدنصیب۔ "اگر مر جاتا تو اس کی سوختہ نصیب جوان مٹی بھی سہارے لگ ہی جاتی۔"      ( ١٩٨٦ء، جوالامکھ، ٥٣ )